علمائے کرام کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ مونچھوں کے بارے میں سنت اور مستحب عمل کیا ہے؟ اس بارے میں دو اقوال پائے جاتے ہیں:
پہلا قول:
سنت یہ ہے کہ مونچھیں مکمل طور پر منڈوا دی جائیں۔
یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے دونوں شاگردوں (امام ابو یوسف اور امام محمد) کا موقف ہے، اور متعدد محقق علما نے بھی اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔
اس قول کے قائلین نے ان نبوی ارشادات کے ظاہری الفاظ سے استدلال کیا ہے، جیسے:
- أحفوا الشوارب (مونچھیں اچھی طرح کتر دو)
صحیح بخاری:( 5892)، صحیح مسلم: (259) - أنهكوا الشوارب (مونچھیں خوب باریک کر دو)
صحیح بخاری: (5893) - جزوا الشوارب (مونچھیں کاٹ دو)
صحیح مسلم: (260)
امام طحاوی رحمہ اللہ نے ان روایات کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:
’’ان تمام آثار کا ثبوت حاصل ہو چکا ہے جو ہم نے اس باب میں ذکر کیے ہیں، اور ان میں کوئی باہمی تضاد نہیں۔ ان کے ثابت ہونے سے لازم آتا ہے کہ مونچھیں اچھی طرح منڈوانا، صرف کترنے کے مقابلے میں افضل ہے۔
یہ تو روایات کی روشنی میں بات ہوئی۔
اور جہاں تک عقلی طور پر غور و فکر کی بات ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ احرام کی حالت میں سر منڈوانے کا حکم دیا گیا ہے اور بال کتروانے کی رخصت دی گئی ہے، تو منڈوانا کٹوانے سے افضل ہوا۔
بال کٹوانے کا عمل ایسا ہے کہ منڈوانے والا اس سے زیادہ عمل کرتا ہے، لہذا جس نے بال منڈوائے، اس کا اجر اس سے زیادہ ہے جس نے صرف کٹوائے۔
تو اسی اصول پر یہ کہنا درست ہو گا کہ مونچھیں کترنا بھی اچھا عمل ہے، مگر مونڈ دینا اس سے بہتر اور افضل ہے۔
یہی امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا موقف ہے۔‘‘ ختم شد
شرح معانی الآثار: (5/320-322)
مزید تفصیلات کے لیے آپ ’’فتح القدیر‘‘ (2/398-399) کا بھی مطالعہ کریں۔
تاہم حنفی فقہائے کرام میں سے ابن عابدین رحمہ اللہ نے ’’رد المحتار‘‘ (2/550) میں بعض متاخرین حنفی علما کا یہ قول نقل کیا ہے کہ سنت صرف مونچھیں کترنا ہے، منڈوانا نہیں چنانچہ آپ کہتے ہیں:
’’ مونچھوں کے متعلق کتروانا مسنون ہے یا منڈوانا؟ اس حوالے سے اختلاف ہے۔
چنانچہ ہمارے متاخر حنفی مشائخ و فقہائے کرام کا موقف یہ ہے کہ کترنا مسنون ہے‘‘ ۔ پھر ’’البدائع‘‘ میں کہا ہے کہ: ’’یہی موقف صحیح ہے۔‘‘ختم شد
حاشیہ ابن عابدین: (2/550)
دوسرا قول:
سنت یہ ہے کہ مونچھیں صرف کتری جائیں، اور منڈوانا مکروہ ہے، یہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا مذہب ہے، بلکہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں سختی کا اظہار فرمایا ہے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں درج ذیل دلائل پیش کیے:
- صحیح حدیث:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ پانچ چیزیں فطرت ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھیں کترنا، ناخن تراشنا، اور بغلوں کے بال نوچنا۔‘‘ صحیح بخاری: (5891)، صحیح مسلم:( 257) - صحابہ کی عملی روایت:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’میری مونچھیں لمبی ہو گئی تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے مسواک پر رکھ کر کاٹ دیا۔‘‘ سنن ابی داود: (188)، اسے امام البانی نے ’’صحیح ابو داود‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔
امام مالک کا فتویٰ: بیہقی نے ’’السنن الكبرى‘‘ (1/151) میں عبد العزیز بن عبداللہ اویسی کے حوالے سے نقل کیا کہ: امام مالک بن انس نے بعض لوگوں کی مونچھیں مکمل مونڈنے کی بات سنی تو فرمایا: ’’ایسے کرنے والوں کو سزا دینی چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں إحفاء (مونچھیں اچھی طرح کتروانے ) کا مطلب یہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ صرف ہونٹوں اور منہ کا کنارہ نمایاں کرنا ہے۔‘‘
نیز فرمایا: ’’مونچھیں مونڈنا لوگوں میں مشہور ہو جانے والی ایک بدعت ہے۔‘‘
شرح الموطأ میں امام مالک کا مؤقف : ابو الولید الباجی ’’المنتقى شرح الموطأ‘‘ (7/266) میں لکھتے ہیں:
ابن عبدالحکم نے امام مالک سے نقل کیا: ’’إحفاء شارب کا مطلب مونڈنا نہیں ہے، اور جو شخص مونچھیں مونڈے اس کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔‘‘
امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد اشہب نے بھی امام مالک سے یہی نقل کیا کہ مونچھیں مونڈنا بدعت ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں:
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب کوئی بات انہیں اچھی نہ لگتی تو وہ اپنی مونچھ کو مروڑتے۔ اگر مونچھیں مونڈی ہوئی ہوتی تو مروڑنے کو کچھ بھی نہ ہوتا۔‘‘ ختم شد
تفصیل کے لیے دیکھیں: ’’التمهيد‘‘ (21/62-68)
امام نووی رحمہ اللہ ’’المجموع‘‘ (1/341) میں لکھتے ہیں:
’’مونچھیں کاٹنے کی مقدار یہ ہے کہ اتنی کاٹی جائیں کہ ہونٹ کا کنارہ ظاہر ہو جائے، مگر جڑ سے بالکل نہ کاٹی جائیں۔ یہی ہمارا (شافعیہ) مذہب ہے۔‘‘ ختم شد
شافعی فقیہ الرملی رحمہ اللہ نے ’’نهاية المحتاج‘‘ (8/148) میں فرمایا:
’’مونچھیں جڑ سے کاٹ دینا مکروہ ہے۔‘‘
حنبلی فقہاء نے بھی مونچھیں کاٹنے کا ذکر کیا ہے، نہ کہ مونڈنے کا:
امام بہوتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ مونچھوں کو چھوٹا کرنا یا ان کے کنارے کاٹنا سنت ہے، اور مکمل طور پر اچھی طرح کتر دینا زیادہ بہتر ہے۔‘‘ ختم شد
دقائق أولي النهى: ( 1/45)
نیز فرمایا:
’’مونچھوں کو اچھی طرح کترنا یا مونچھوں کے کنارے کاٹنا سنت ہے، اور مکمل طور پر کترنا افضل ہے؛ جیسا کہ نص سے واضح ہے۔‘‘
النہایہ میں ہے کہ: ’’ إحفاء الشوارب‘‘ کا مطلب ہے کہ آپ مونچھیں جڑ سے اچھی طرح کاٹ دیں۔ یہی بات حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں کہی ہے کہ: ’’ إحفاء ‘‘ میں بغیر نقاط کے حا اور پھر فا ہے- اس کا معنی ہے کسی چیز کا مکمل طور پر احاطہ کرنا، اسی مفہوم میں یہ الفاظ ہیں: ’’حَتَّى أَحْفُوهُ بِالْمَسْأَلَةِ ‘‘یہاں تک کہ انہوں نے سوالات کے ذریعے اس کو عاجز کر دیا۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: کشاف القناع: (1/75)
خلاصہ:
مونچھیں کترنا سنت ہے، اور اسی سے بنیادی سنت ادا ہو جاتی ہے۔ اور اگر کسی نے زیادہ اچھی طرح سے کتر دیا (یعنی إحفاء کیا) تو یہ زیادہ افضل ہے اور یہ سنت کا مکمل درجہ ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مونچھیں اس حد تک کاٹنے سے سنت حاصل ہو جاتی ہے کہ ہونٹ کا کنارہ ظاہر ہو جائے۔ اور جو اس سے زیادہ کاٹے تو وہ افضل ہے، اس پر واضح نص موجود ہے۔
البتہ مونچھوں کو منڈوانا مستحب نہیں ہے، کیونکہ بخاری کی روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد منقول ہے: أنْهِكُوا الشَّوَارِبَ، وَاعْفُوا اللِّحَى یعنی: مونچھیں اچھی طرح کتر دو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
امام بخاری نے فرمایا: ’’ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی مونچھیں اس قدر باریک کرتے کہ مونڈنے کی جگہ تک نظر آنے لگتی۔‘‘
اور حرب نے اپنی کتاب ’’المسائل‘‘ میں عبداللہ بن رافع سے روایت کیا: ’’میں نے ابو سعید خدری، سلمہ بن اکوع، جابر بن عبداللہ، ابن عمر اور ابو اسید رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھیں اس طرح کاٹتے تھے جیسے مونڈنے کے قریب قریب ہو، یعنی مونڈنے کی حد سے متصل حد تک باریک کرتے ۔‘‘
یہی مذہب سلف کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے:
امام بیہقی نے ’’السنن الكبرى‘‘ (1/151) میں اپنی سند سے شرحبیل بن مسلم خولانی سے روایت کیا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پانچ صحابہ کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھیں کاٹتے، داڑھیاں بڑھاتے اور انہیں زرد رنگ لگاتے تھے، وہ حضرات یہ تھے: ابو امامہ باہلی، عبداللہ بن بسر، عتبہ بن عبد سُلمی، حجاج بن عامر الثمالی، اور مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہم۔ یہ سب اپنی مونچھیں اس حد تک کاٹتے تھے کہ ہونٹ کا کنارہ نمایاں ہو جاتا۔‘‘
اور پہلے قول (یعنی مونچھیں مکمل منڈوانے کے قائلین) کے دلائل کا جواب انہوں نے دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے دیا:
1- پہلا جواب یہ ہے کہ ’’إحفاء‘‘ (مونچھوں کو اچھی طرح کترنے) اور ’’إنهاك‘‘ (خوب باریک کرنے) سے مراد صرف ان بالوں کے سروں کو کاٹنا ہے جو ہونٹ پر ہوتے ہیں، نہ کہ جڑ سے پورے بال مونڈ دینا۔ اس کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں صرف ’’قص‘‘ (کاٹنے) کا ذکر آیا ہے، اور یہی روایات ’’إحفاء‘‘ والی احادیث کی وضاحت کرنے والی ہیں۔
علامہ ابو الولید الباجی رحمہ اللہ ’’المنتقى شرح الموطأ‘‘ (7/266) میں فرماتے ہیں:
’’ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں ’إحفاء الشوارب‘ (مونچھیں اچھی طرح کترنے) کا مطلب یہ ہے کہ اطار ہونٹ کا کنارہ ظاہر ہو جائے، اور کنارے سے مراد وہ حصہ ہے جو ہونٹ کے کنارے پر سرخ ہوتا ہے اور منہ کے چاروں اطراف کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
امام نووی رحمہ اللہ ’’المجموع‘‘ (1/340) میں فرماتے ہیں:
’’ہمارے نزدیک ان روایات، یعنی (أحفوا، أنهكوا، الشوارب) سے مراد ہونٹ کے کنارے کے بالوں کو کاٹنا ہے، نہ کہ بالوں کو جڑ سے مونڈ دینا۔‘‘ ختم شد
2- دوسرا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں ’’الإحفاء‘‘ اور ’’الإنهاك‘‘ کے الفاظ کا مطلب کلی طور پر ازالہ (یعنی مکمل مونڈنا) نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد کسی چیز کے کچھ حصے کو ختم کرنا ہوتا ہے۔
ابو الولید الباجی ’’المنتقى شرح الموطأ‘‘ (7/266) میں فرماتے ہیں:
’’کسی چیز کو ’ إنهاك ‘ کرنا اس میں یہ لازم نہیں کہ اسے مکمل ختم کر دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے کچھ حصے کو ختم کیا جائے۔
صاحب کتاب ’’الأفعال‘‘ کہتے ہیں: عربی زبان میں کہا جاتا ہے: ’’ نَهَكَتْهُ الْحُمّى نَهْكًا ‘‘ یعنی بخار اس پر اثر انداز ہوا۔‘‘ ختم شد
3- تیسرا جواب یہ ہے کہ ’’إنهاك‘‘ اور ’’إحفاء‘‘ سے مراد یہ ہے کہ مونچھوں کو اچھی طرح کاٹا جائے، نہ یہ کہ پورے کے پورے بال مونڈ دیے جائیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ احادیث کے مختلف الفاظ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’یہ تمام الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مطلوب یہ ہے کہ مونچھوں کے بالوں کو اچھی طرح کم کیا جائے؛ کیونکہ ’الجز‘ (جیم اور زائے مشدد کے ساتھ) کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بالوں یا اون کو اس حد تک کاٹا جائے کہ جلد نظر آنے لگے۔ اور ’الإحفاء‘ (حاء اور فاء کے ساتھ) کا مطلب ہے خوب اچھی طرح صفائی کرنا۔ جیسے کہا جاتا ہے: (حتى أحفوه بالمسألة) یعنی بار بار سوال کر کے خوب عاجز کر دیا۔
ابو عبید ہروی کے مطابق : اس کا مطلب ہے کہ مونچھوں کو جلد سے چپکا دیا جائے (یعنی بال بالکل چھوٹے کر دیے جائیں)۔
خطابی کہتے ہیں: اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اچھی طرح کم کر دیا جائے۔
اور ’النهك‘ (نون اور کاف کے ساتھ) کا مطلب ہے کسی چیز کو زیادہ سے زیادہ کم کرنا، اور یہی مطلب ختنہ کی حدیث میں بھی آتا ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ختنہ کرنے والی خاتون سے فرمایا: ’’أشمي ولا تنهكي‘‘ یعنی ہلکا سا نشان لگا دینا، لیکن بہت زیادہ کٹ نہ لگانا۔ اور اہلِ لغت کا بھی یہی مؤقف ہے۔ ‘‘ ختم شد
فتح الباری: (10/347)
اور راجح قول – واللہ اعلم – یہی ہے کہ سنت یہ ہے کہ مونچھوں کو کاٹا جائے، نہ کہ مونڈا جائے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ’’مجموع الفتاوى‘‘ (جلد 11، باب السواك وسنن الفطرة، سوال نمبر 54) میں فرماتے ہیں:
’’افضل عمل یہ ہے کہ مونچھیں کاٹی جائیں، جیسا کہ سنت میں وارد ہوا ہے ۔۔۔ رہی بات مونڈنے کی، تو یہ سنت سے ثابت نہیں۔
اور بعض لوگوں نے مونچھیں مونڈنے کو، نسک (یعنی حج و عمرہ) میں سر منڈوانے پر قیاس کیا ہے، تو یہ قیاس نص کے مقابلے میں ہے، اس لیے قابلِ اعتبار نہیں۔ اسی لیے امام مالک نے مونڈنے کے بارے میں فرمایا: ’یہ ایک بدعت ہے جو لوگوں میں رائج ہو گئی ہے‘، لہذا سنت سے ہٹنا مناسب نہیں؛ کیونکہ سنت کی پیروی میں ہی ہدایت، اصلاح، کامیابی اور فلاح ہے۔‘‘ مختصراً ختم شد
فتاوی دائمی فتوی کمیٹی سے سوال پوچھا گیا:
’’کئی احادیث میں آیا ہے کہ (قصوا الشارب)، تو کیا مونڈنا اور کتروانا دو الگ الگ عمل ہیں ؟ اور بعض لوگ صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنی مونچھ کے صرف اتنے حصے کو کاٹتے ہیں جو اوپر کے ہونٹ کے ساتھ ہوتا ہے، اور باقی بال چھوڑ دیتے ہیں، یعنی تقریباً آدھی مونچھ کاٹتے ہیں، باقی چھوڑ دیتے ہیں، تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ یا مراد یہ ہے کہ پوری مونچھ مونڈی جائے؟ براہِ کرم مونچھ کاٹنے کا صحیح طریقہ بیان کریں۔‘‘
تو انہوں نے جواب دیا:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے صحیح احادیث میں مونچھیں کاٹنے کی مشروعیت آئی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ’’مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مشرکوں کی مخالفت کرو‘‘ اس حدیث کے صحیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔
اور یہ فرمان بھی: ’’مونچھیں چھوٹی کرو، داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو‘‘
اور بعض روایات میں آیا ہے: ’’مونچھیں اچھی طرح کتر دو‘‘ اس حدیث کے عربی الفاظ میں موجود ’’إحفاء‘‘ کا مطلب ہے کہ مونچھوں کو اچھی طرح کاٹا جائے۔
تو جس شخص نے مونچھیں اتنی کاٹیں کہ اوپر کا ہونٹ ظاہر ہو جائے، یا اس نے ’’إحفاء‘‘ کیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں، کیونکہ احادیث دونوں باتوں کو بیان کرتی ہیں۔
لیکن مونچھ کے کنارے چھوڑ دینا جائز نہیں، بلکہ پوری مونچھ کو کاٹا جائے یا اچھی طرح کتر دیا جائے، تاکہ سنت پر عمل ہو۔‘‘ ختم شد
شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ عبدالرزاق عفیفی، شیخ عبداللہ بن قعود ۔
فتاوی دائمی فتوی کمیٹی: (5/149)
اور امام طبری اور قاضی عیاض رحمہما اللہ نے دونوں صورتوں – یعنی مونچھیں اچھی طرح کاٹنا (إحفاء) اور صرف کاٹنا (قص) – کے جواز کو اختیار کیا ہے۔
مزید کے لیے دیکھیں: ’’فتح الباری‘‘ (10/347-348)، ’’زاد المعاد‘‘ لابن القیم (1/171-175)، اور ’’الموسوعة الفقهية‘‘ (25/320)
واللہ اعلم