Previousآگے
فقہ اور اصول فقہ
3

غسل جنابت کس وقت فرض ہوتا ہے؟

سوال: 170796

میاں بیوی کے درمیان مباشرت یا بوس و کنار کے دوران دو صورتیں پیش آ سکتی ہیں: ایک یہ کہ عورت جنسی لذت کی انتہا کو پہنچ جائے مگر اس سے کوئی مادہ خارج نہ ہو، اور دوسری یہ کہ وہ اسی حالت میں کسی رطوبت کے ساتھ انزال بھی ہو جائے۔ اسی ضمن میں میں نے ایک بات پڑھی ہے کہ اگر عورت کو کوئی رطوبت نظر آئے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کے جسم سے خارج ہونے والے مادے کی دو اقسام ہیں: پہلی: وہ جو معروف طور پر منی کہلاتی ہے، اور دوسری: وہ جو اندام نہانی کو نم رکھنے کے لیے خارج ہوتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی سے بوس و کنار کرے اور وہ شہوت کی انتہا کو پہنچ جائے مگر انزال نہ ہو، تو کیا ایسی حالت میں عورت جنبی ہو جائے گی اور اس پر غسل واجب ہو گا؟

جواب کا خلاصہ

زوجین کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ جنابت کی حالت میں غسل واجب ہونے کے دو بنیادی اسباب ہیں:

1) ہمبستری (جماع): یعنی مرد کا اپنی بیوی کی شرمگاہ میں عضو داخل کرنا، خواہ انزال نہ ہو۔

2) منی خارج ہونا، اس کی دلیل سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (غسل کا پانی ؛ منی کے خارج ہونے سے  واجب ہوتا ہے۔)

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

غسل جنابت کس وقت فرض ہوتا ہے؟

خاوند اور بیوی کو علم ہونا چاہیے کہ جماع کرتے ہوئے غسل کا موجب بننے والے امور دو ہیں:

  1. ہمبستری (جماع): یعنی مرد کا اپنی بیوی کی شرمگاہ میں عضو داخل کرنا، خواہ انزال نہ ہو۔ جیسے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ( جب مرد عورت کے چار اعضا کے درمیان آ بیٹھے، پھر اس سے مباشرت کرے، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔) اس حدیث کو امام بخاری (حدیث: 291) اور امام مسلم (حدیث: 348) نے روایت کیا ہے، اور مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: ’’اگرچہ انزال نہ ہو۔‘‘
    ایسی صورت میں دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں صراحت کے ساتھ وارد ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ  کہتے ہیں: ’’ انزال کے بغیر بھی اگر عضو مخصوص کا اگلا حصہ فرج میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، اور اس مسئلے پر امت کا اجماع ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے بعض اہل علم میں اس پر اختلاف رہا، تاہم بعد میں اس پر مکمل اتفاق ہو گیا، اور اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔ ‘‘ شرح صحیح مسلم: (4 / 40، 41)

  1. منی کا خروج:جب مرد یا عورت سے منی خارج ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’غسل کا پانی صرف منی کے انزال سے واجب ہوتا ہے۔‘‘  (صحیح مسلم: 343) یہ منی مرد سے اچھل کر نکلتی ہے، جبکہ عورت سے بغیر اچھلے خارج ہوتی ہے۔ تاہم دونوں کو منی خارج ہوتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے اور اس کے بعد بدن میں سستی  آ جاتی ہے۔ نیز دونوں کے منی کی مہک بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (36865) ، (83570) ، (2458)  اور (12317) کا جواب ملاحظہ کریں۔

عورت سے جماع کے دوران خارج ہونے والی رطوبتوں کی وضاحت:
ایک شادی شدہ عورت کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مباشرت کے دوران اس کے جسم سے خارج ہونے والی رطوبت دو قسم کی ہوتی ہے:

  1. وہ رطوبت جو اندام نہانی کو نم کرنے کے لیے قدرتی طور پر خارج ہوتی ہے تاکہ جماع کا عمل آسان ہو، یہ رطوبت غسل کو واجب نہیں کرتی، البتہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
  2. وہ رطوبت جو جنسی لذت کی انتہا (اوجِ شہوت) کے بعد خارج ہوتی ہے اور جس کے فوراً بعد بدن میں سستی آتی ہے، یہی اصل منی ہے، اور اس کے نکلنے سے غسل فرض ہو جاتا ہے۔

عورت اور مرد کی منی میں فرق پایا جاتا ہے: مرد کی منی سفید اور گاڑھی ہوتی ہے، جبکہ عورت کی منی زردی مائل اور پتلی۔  جیسے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یقیناً مرد کی  منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے جبکہ  عورت کی منی پتلی اور زرد ہوتی ہے۔) مسلم(311)
یہی وہ منی ہے جس کے نکلنے پر مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android